قربانی کا فلسفہ

قربانی کا فلسفہ

March 11, 2022 10 months ago 1 Comment

قربانی کا فلسفہ کیا ہے؟ اور اس کا مقصد اور قربانی کو جائز کرنے کا ہدف کیا تھا ؟ وہ یہ تھا کہ صرف خداوند عالم وحدہ لاشریک کے سامنے سرتسلیم خم کریں اور جو کچھ وہ حکم دے اسی پر عمل کریں ۔

 

 عربی زبان میں قربانی کو ”اضیحہ“ کہتے ہیں

 

(المعجم الفارسی الکبیر ، لفظ قربانی کے ذیل میں)

 

لہذا دسویں ذی الحجہ کوجس میں قربانی کی جاتی ہے ، اس کو عیدالاضحی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

 

  فقہی اصطلاح میں قربانی اس جانور کو کہتے ہیں جس کو عیدالاضحی دسویں (بقرعید کے روز) گیارہویں اور بارہویں ذی الحجہ تک   واجب ہونے کے اعتبار سے ذبح یانحر کرتے ہیں۔

 

اقوام عالم کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے  یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہر قوم میں قربانی کا تصور کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا ہے، ہزاروں سال پہلے جب انسان اپنے حقیقی خالق و مالک کو بھول چکا تھا اور سورج، ستاروں بلکہ اپنے ہاتھوں سے تراشے ہوئے بتوں اور دیوتاؤں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے یا ان کے نام کی نذر و نیاز مانتے ہوئے جانور وغیرہ کو ذبح کر کے ان کے سامنے رکھ دیتا تھا یا پہاڑوں پر چھوڑ دیتا اور یہ عقیدہ رکھتا کہ اب دیوتا اور بت مجھے آفات و حادثات سے محفوظ رکھیں گے۔

 

قربانی کا یہ تصور یونہی چلتا رہا، آج سے تقریباً چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ کے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام نے قربانی کا حقیقی مقصد اور صحیح فلسفہ دنیا کے سامنے پیش کیا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں دکھایا گیا کہ وہ اپنے بیٹے اسماعیل کو ذبح کر رہے ہیں اور یہ بات آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ نبی کا خواب بھی ”وحی“ ہوا کرتا ہے چنانچہ اللہ رب العزت کے حکم کی تعمیل کے لیے پھر فلسطین سے مکہ مکرمہ روانہ ہوئے۔

 

حضرت اسماعیل علیہ السلام نے تو اللہ تعالیٰ کے نام پر خود قربان ہونے کے لیے پیش کیا اس لیے ان کا جذبہ تو واضح طور پر سمجھ میں آتا ہے جبکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا جذبہ قربانی سمجھنے کے لیے ایک دوسری حقیقت کو سمجھنا ہوگا وہ یہ کہ باپ کیلیے اولاد کی قربانی پیش کرنا اپنے آپ کو ذبح کر لینے سے زیادہ مشکل ہوتا ہے،

 

یہ کام اعصاب شکن، مشکل اور بہت صبر آزما تھا جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے صدق نیت کے ساتھ اس پر عمل کر کے دکھایا تو اللہ رب العزت نے بچے کے عوض ایک دنبہ وہاں بھیج دیا اور فرمایا کہ آپ امتحان میں کامیاب ہوچکے ہیں۔ اس کے بعد یہ عمل شریعت میں اس قدر پسندیدہ اور مقبول ہوا کہ اسے ”سنتِ ابراہیمی“ کے مبارک الفاظ سے یاد کیا جانے لگا

 

قربانی والی عبادت ان چیزوں میں سے ایک ہے جو اسلام کی علامت اور شعائر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے دس سالہ قیام میں ہر سال قربانی فرماتے رہے

اور آپ کے بعد صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین، ائمہ مجتہدین، مفسرین، محدثین، اسلاف اور اکابر، غرض پوری اس وقت سے لے کر آج دن تک امت کا متوارث،

 

متواتر اور مسلسل عمل بھی قربانی کرنے کا چلا آ رہا ہے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Recent Blogs