اختلافِ رائے

March 15, 2022 10 months ago 1 Comment

انسان کی فطری عادات و طبائع میں اختلاف پایا جانا یہ ایک بدیہی اور واضح امر ہے۔دنیا میں اربوں انسانوں میں سے کسی دو کے مزاج مکمل طور پر ایک دوسرے سے موافقت رکھتے ہوں یہ ناممکن ہے۔ بلکہ ابّا آدم سے لیکر آخری آنے والے انسان تک  ہر شخص دوسرے سے کچھ نہ کچھ مزاجی اور طبعی اعتبار سے مختلف ہوتاہے۔

 

حتیٰ کہ ایک ہی ماں باپ کی اولاد میں سے دو جڑواں بچے  بھی ایک دوسرے سے مزاج، آرا، اور طبائع وغیرہ میں مختلف ہوتے ہیں۔کسی کو گرم دودھ اچھا لگتا ہے تو کوئی ٹھنڈا کر کے پینا چاہتا ہے، ایک ایسا خاموش رہتا کہ ہے لوگ گونگا خیال کرتے ہیں، دوسرا ہے کہ خاموش ہونے کا نام ہی نہیں لیتا، اسی لیے ہر ایک کی رائے بھی دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔

 

اگرایک شخص بالاخانے سے چھلانگ لگا دے تو کوئی اس کو بہادری کے لقب سے نوازتا ہے ، تو کوئی احمق و بے وقوف قرار دیتا ہے اور اس میں کسی قسم کی کوئی قباحت بھی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ آرا کا اختلاف ایک فطری عمل ہے مطلقاً اختلاف کو مذموم سمجھنا یہ آئین فطرت کے خلاف ہے۔

 

گلہائے رنگ رنگ سے ہے زینتِ چمن اے ذوق!

اس   جہان   کو   زیب   ہے اختلاف   سے

 

 

البتہ اختلافِ رائے کی حدود و قیود کیا ہیں؟کیا ہر رائے کا اختلاف قابلِ قبول ہے یا اس کے لیے کوئی پیمانہ بھی ہے کہ جس کے ذریعہ سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکے کہ کس کی رائے کی اہمیت زیادہ ہے اور کس کی بات بے وزن وفضول ہے؟

 

اس بارےمیں ایک بات قابل توجہ ہے کہ کسی بھی فن میں بات ماہر فن ہی کی معتبر ہوتی ہے۔جس کا علم گہرا اور وسیع ہو ، تجربات کے مجاہدے برداشت کیے ہوں، دراز عمر اور پختہ مزاج ہو تو اس کی بات بھی اتنی وزن رکھے گی۔اور اگر کوئی شخص علمی اعتبار سے کورے کاغذ کی طرح ہو، تجربات کے مراحل کی بٹھی کی ہوا تک نہ لگی ہو اور منہ سے ابھی تک ماں کے دودھ کی بو آتی ہو تو آپ خود ہی فیصلہ کریں کہ اس شخص کی رائے کی حیثیت کیا ہو گی۔

 

اگر کوئی سبزی فروش جس نے کبھی مکتب و اسکول کا منہ نہ دیکھا ہو وہ ریاضی کے پروفیسر پر اعتراض کرے کہ مسئلہ فیثاغورس آپ کو پڑھانا نہیں آتا لہذا میں آپ کو سکھاتا ہوں،تو اس سبزی فروش کو پاگل پن کی اعلیٰ ترین ڈگری سے کم درجہ دینا زیادتی ہوگی یاطب کا کوئی ماہر ڈاکٹر کسی کسان کو کیھتی باڑی کے اصول و ضوابط سمجھانے کی کوشش کرے گا تو اس کا نام بھی اس لسٹ میں لکھا جائے گا جو پاگل خانے کے انچارج کے پاس ہوتی ہے بلکل اسی طرح اگر کوئی ڈاکٹر، انجینئر اور پروفیسر دین کے فتوے دینے بیٹھ جائے اور قرآن وحدیث کی تشریح شروع کر دے تو اس کی حیثیت پاگل خانے کے اس شخص سے زیادہ نہیں ہوگی جو اپنے آپ کو دنیا کا سب سے بڑا ذہین مفکر شمار کرتا ہے۔

 

اگر وہ ہمارے اس اعزاز سے خفا ہے تو وہ خود ہی اپنے لیے بے وقوفی و پاگل پن کا کوئی بلند رتبہ تجویز کر لے۔ آج کا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنی فیلڈ کو چھوڑ کر دوسرے کے پیچھے پڑے ہیں۔چاہے فوج ہو یا عدلیہ، تعلیم ہو یا صحت، عوام ہو یا حکومت، امیر ہو یا غریب سب دوسرے کو ٹھیک کرنے کی فکر میں ہیں ۔

 

خدارا جس شعبے کے لیے اللّٰہ نے آپ کو منتخب کیا ہے اسی میں رہتے ہوئے اپنی قوم کی خدمت میں کردار ادا کریں۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Recent Blogs