مشاجراتِ صحابہ تکمیلِ شریعت کے لیے تھے

March 14, 2022 10 months ago 1 Comment

صحابہ کرام کے درمیان مشاجرات در حقیقت اللہ کی طرف سے شریعت کی تکمیل کے لیے کرائے گئے تھے۔

کیوں کہ کسی بھی قانون کی تکمیل اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک اسے نافذ نہ کر دیا جائے ، قانون کے نفاذ کے بعد ہی

یہ عملی ثبوت مل سکتا ہے کہ وہ انسانوں کے لیے مفید ہے یا مضر ۔

شرعی احکام اللہ کی طرف سے ہیں، اس لیے ان کا مفید ہونا ایک مسلمان کے لیے یقینی ہے۔ مگر عام انسان جب تک ان کے نفاذ کے اثرات کو نہ دیکھ لے وہ مطمئن نہیں ہوسکتا۔

اس لیئے الله تعالیٰ نے دنیا والوں کے سامنے ہر قسم کے شرعی احکام کا عملی نمونہ محفوظ فرما دیا۔

یہ شرعی احکام چار قسم کے ہیں

ایک وہ جنہیں کر کے دکھانا حضور سلام کی ذات عالی کے شایان شان تھا۔ جیسے نماز ، روزو، حج ، ز کوۃ  جہاد وغیرہ،

اللّٰہ تعالی نے ایسے کام حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے کرائے ۔ تا کہ امت کو براہ راست پیغمبر علیہ السلام سے عملی نمونہ ملے۔

 

دوسری قسم کے احکام ایسی لغزشوں سے متعلق تھے جن کا صدور، ذات نبوت سے ہونا بھی عصمت انبیاء کے

منافی نہ تھا ، جیسے نماز میں بھول چوک ہوکر جدہ سہو واجب ہونا ،نماز قضا ہو جانا ۔ ایسے احکام کی تکمیل بھی خود ذات نبوت سے کرائی گئی، اور اس کے لیے کبھی کبھار پیغمبر علیہ السلام کو سہو کرادیا گیا، ایک آدھ مرتبہ نیند طاری کر کے نماز فجر قضا کرادی گئی، تاکہ امت کو خود آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زندگی سے ایسے مسائل کا شرعی حکم معلوم ہو جائے۔

 

تیسری قسم کے احکام شرعی سزاؤں سے متعلق تھے، جیسے شراب نوشی ، چوری اور بدکاری کی سزائیں ۔ چونکہ

پیغمبر کی ذات معصوم ہوتی ہے اس لیے ایسے کاموں کا ارتکاب ، ذات رسالت مآب صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے ممکن ہی نہ تھا۔  لہذا اللّٰہ تعالیٰ نے ایسے احکام

 حضور اکرم ان کی زندگی میں بعض غیر معروف صحابہ سے کروا دیے۔ حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے حکم سے ان پر شرعی سزائیں جاری ہوئیں ۔

دنیا کے سامنے عملی طور پر یہ نمونہ آگیا کہ سنت نبوی میں ایسے جرائم کی یہ سزا مقرر ہے۔

 

ان جرائم کے مرتکب حضرات بذات خودنہایت پاکباز تھے مگر اللہ کی تقدیر اور مشیت نے ان سے ایسے کاموں کو کروا دیا ، تاکہ شرعی احکام صرف زبانی او تحریری ہی نہ رہیں بلکہ ان کا عملی ثبوت بھی موجود ہو۔ تا کہ شریعت کی تکمیل ہو سکے۔

 

چوتھی قسم کے شرعی احکام وہ ہیں جن کے نفاذ کے لیے حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا پرنور زمانہ مناسب نہ تھا؛ کیوں کہ یہ احکام فتنوں، فساد، اختلاف اور خانہ جنگی سے متعلق ہیں ۔

   اسلام میں ان مسائل کا حل اور ان سے متعلق ہدایات موجود ہیں مگر حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مبارک زمانے کے شایان شان نہ تھا کہ اس میں ایسے فتنے ظاہر ہوتے۔ اس لیے ان احکام کے عملی نفاذ کے لیے اللّٰہ نے حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد کا وقت رکھا اور وہ بھی تب جب اسلام دنیا میں غالب اور مستحکم ہو جائے

تا کہ اندرونی قتوں سے اسلامی ریاست اس کی کمزور نہ ہو جائے کہ بیرونی طاقتیں اس پر چڑھ دوڑیں۔

 

اللہ کی تقدیر کے اس فیصلے کے مطابق ، حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کے دور میں یہ اختلافات رونما ہوئے جن میں موقع بموقع فتتوں سے متعلق تمام شرعی احکام کا عملی نمونہ سامنے آتا چلا گیا ۔ ان احکام کے نفاذ کے اثرات بھی دنیا کے سامنے آگئے

کہ جلد ہی مسلمان متحد ہو گئے اور اسلامی فتوحات اور عروج کا دور ایک بار پھر شروع ہو گیا۔

 

غرض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین وہ سچے عاشق تھے جنہوں نے شریعت کی تکمیل کے لیے جہاں قدم قدم پر جان و مال کی قربانی دی، وہاں اپنی عزتیں بھی اللّٰہ کی مشیت کی تکمیل کے لیے پیش کر دیں

 

صدمات کو بھی جھیل جاتے ہیں۔ جان و مال کے ساتھ عزت و شہرت کی قربانیاں بھی دیتے ہیں اور اللہ کی تقدیر میں لکھے اتنے بڑے سانحوں پر بھی راضی برضا رہتے ہیں۔ حرف گیری اور تنقید کرنے والوں نے مشاجرات میں تلواروں کا چلنا اور لاشوں کا گرنا دیکھا اور صحابہ کو دنیا پرست اور اغراض پسند سمجھ کر گمراہ ہو گئے ۔ لیکن ایمان والوں نے ان واقعات کے پیچھے اللّٰہ کی حکمت اور مشیت کو دیکھا اور صحابہ کرام کے بارے میں وہی عقیدہ رکھا جو قرآن مجید نے بتایا ہے: رضی اللّٰہ عنھم ورضواعنه , تو یہی ایمان والا عقیدہ ہے۔

 

 

مشاجراتِ صحابہ کی تکوینی حکمتوں میں ایک حکمت یہ تھی کہ اہل ایمان کے ایمان کی آزمائش ہوجائے ۔ قیامت تک آنے والے مسلمانوں کا امتحان ہو جائے کہ ان واقعات کو دیکھنے یا جاننے کے بعد وہ صحابہ کرام کے بارے میں وہی اعتقادرکھیں گے جو قرآن و سنت میں

مذکور ہے یا گمراہ ، دین دشمن اور فتنہ پرور لوگوں کی باتوں میں آ کر  اپنی کوئی رائے قائم کر لیں گے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی کمی دل میں لا کر ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Recent Blogs