عدل کی ضرورت اور اہمیت

March 18, 2022 10 months ago 1 Comment

کسی بھی معاشرے کے استحکام کے لیے نظامِ عدل کا پایا جانا انتہاٸی ضروری ہے۔جس معاشرے میں عدل کے بجاۓ ظلم عام ہو جاتا ہے اس میں احساس محرومی،بے چینی،بے قراری،عدم اطمینان اور بدامنی جنم لیتےہیں ۔معاشرے میں مختلف طرح کی سوچ وفکر کے حامل لوگ پاۓ جاتے ہیں ۔ان تمام لوگوں کو معاشرتی نظم میں پرونے کے لیے عدل وانصاف کاراستہ اختیار کرنا انتہاٸی ضروری ہے ۔

عدل کا مطلب یہ ہے کہ کسی چیز کو اس مقام پر رکھاجاۓ جو اس کا حق ہے اور اس کے بر عکس ظلم کامطلب یہ ہے کہ کسی چیز کو ایسی جگہ پر رکھ دیا جاۓ جواس کا محل نہیں ہے ۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی ذات کے ساتھ کیے گۓ شرک کو بھی ظلمِ عظیم قرار دیا ہے ۔

اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ کیا گیا شرک ظلمِ عظیم ہے اور اس کے بعد مخلوق کی حق تلفی کرنا بھی ظلم ہے اور اس کی دو بڑی وجوہات ہو سکتی ہیں ۔ایک وجہ تو یہ کہ اپنے اعزہ واقارب کی حمایت میں کسی کے ساتھ نا انصافی کی جاۓ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ کسی کی عداوت کی وجہ سے اُس سے زیادتی کی جاۓ ۔

معاشرے میں بہت سی ناہمواریوں ،بے اعتدالیوں،ظلم اور جراٸم کی وجہ معاشرے میں نظام عدل کا کمزور ہونا ہے۔بااثر اور امیر لوگوں کی رشوت ،سفارش اور دباٶ کی وجہ سے بہت سے کمزور لوگ ظلم وستم کا نشانہ بنتے رہتے ہیں اور بہت سے بااثر لوگ رشوت،سفارش اور دباٶکی وجہ سے قانون کے شکنجے سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔

اللہ تبارک و تعالیٰ کے حبیب حضرت محمد رسول اللہ ﷺنے اپنی پوری زندگی میں عدل کی تلقین کی اور کسی بھی سفارش کو عدل اور انصاف کے قیام کے راستے میں حاٸل نہیں ہونے دیا۔

اگر معاشرے میں صحیح معنوں میں عدل کا نفاذ ہو

تو معاشرے میں جراٸم کا با آسانی خاتمہ ہو سکتا ہے۔

اسی طرح گھریلو نا ہمواریوں کی بہت بڑی وجہ بھی نا انصافی ہے۔ کٸی مرتبہ گھر کے بڑے افراد اپنی جوانی اور بزرگوں کی کمزوری کا فاٸدہ اُٸھاتے ہوۓ ان کی بے ادبی اور حق تلفی کرتے ہیں ۔اس نا انصافی کی وجہ سے گھریلو نظام میں نا ہمواری پیدا ہوتی ہے اور ظلم کی وجہ سے گھر میں نوجوان یا بڑے افراد میں سے کسی نہ کسی کی حق تلفی ہو جاتی ہے ۔رشتوں میں توازن کو برقرار رکھنا گھر کے تمام افراد کی ذمہ داری ہے۔

اگر گھروں میں نا انصافی کے بجاۓ عدل اور احسان کا دور دورہ ہو جاۓ تو گھریلو مساٸل کا بہ آسانی خاتمہ ہو سکتا ہے ۔

ہمارے ملک کے سیاسی کلچر میں بے اعتدالی کی بہت بڑی وجہ بھی نا انصافی ہے ۔اگر مخالف جماعت کا لیڈر یا رہنما کوٸی غلطی کرے تو ہم فوراً سے پہلے اس پر تنقید کرنے پر آمادہ وتیار ہو جاتے ہیں ،لکین جب اپنی جماعت کا لیڈر یا رہنما کوٸی غلطی کرے تو اس کے دفاع کے لیے طرح طرح کی تاویلات کا سہارا لیا جاتا ہے۔ ان رویوں نے معاشرتی ہم آہنگی کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے۔

معاشرے کو ہم آہنگ ،مضبوط اور مربوط بنانے کے لیے عدل اور انصاف کا قیام انتہاٸی ضروری ہے۔اسی طریقے سے ہم معاشرے کو ترقی کے راستے پر گامزن کر سکتے ہیں اور اپنے گھریلو ،سماجی اور سیاسی خلفشار پر قابو پا سکتے ہیں ۔

اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ معاشرے کو عدل اور انصاف کا گہوارہ بناۓ.

 

آمین

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Recent Blogs