اظہار محبت

اظہار محبت

March 8, 2022 10 months ago 1 Comment

یقیناً محبت اظہار مانگتی ہے۔یقیناً محبت اظہار مانگتی ہے۔ مگر افسوس کہ ہم خالی اقرار کو اظہار سمجھ لیتے ہیں۔ دراصل دور حاضر میں کوئی ایسی عام یا خاص درس گاہ نہیں جہاں محبت کا سبق کم از کم پڑھایا ہی جاتا ہو۔ بلکہ یہ کہنا بالکل بھی غلط نہیں ہوگا کہ، آج کل فلموں، ڈراموں اور قصہ کہانیوں میں جو ہوس دکھائی دے رہی ہے،

 

ہم اسی کو محبت مان کر چل رہے ہیں۔ اس وجہ سے شاید معاشرے میں بگاڑ بھی بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ مگر محبت تو بڑا جذبہ ہے۔ یہ بے لوث عقیدت ہے۔ محبت چاہے والدین سے کی جائے یا اولاد سے، خواہ اساتذہ سے خواہ اپنے روزگار و کاروبار سے، خواہ کسی محبوب یا محبوبہ سے یا پھر حقیقی محبت حق تعالٰی اور اسکے محبوب مصطفٰی صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی ذات پاک سے کی جائے۔

 

اس میں بے لوث ہونا نہایت ہی ضروری ہے۔بلکہ یہ سمجھ لیں کہ فرض ہے۔ یعنی محب اپنے لئے کچھ بھی نہ چاہے اور ہر اس حال میں کلمۂ شکر پڑھے۔ جس حال میں اسکا محبوب اس سے راضی ہو اور وہ خود محبوب کے لئے ہر طرح سے خیر بن جائے۔ بیدم شاہ وارثی فرما گئے: "یہاں ہونا نہ ہونا ہے نہ ہونا عین ہونا ہے" "جسے ہونا ہو کچھ خاک در جانانہ ہو جائے" مطلب محب کے لئے محبوب کے در کی خاک بن جانا ہی بڑی عزت، تسلی اور تشفی کا مقام ہے کہ، جب محبوب وہاں سے گزرے تو اپنے قدم مجھ پر رکھ کر گزرے۔ اس کے بعد تو مجھے نہیں لگتا کہ، میں نے جاگتی آنکھوں سے کچھ زیادہ محبت کرنے والے دیکھے ہیں۔

 

ہاں بہت قلیل بے حد قلیل دیکھے ہیں۔ افسوس! کہ اس جہاں میں بے انتہا اکثریت خود پرست باقی ہیں۔ تو پھر انہیں خدا کیسے سمجھ میں آ سکتا ہے۔ بابا بلھے شاہ فرما گئے: "جیں دل وچ پیار دی رمز نہیں، بس اوں دل کوں ویران سمجھ" جس دل میں پیار یعنی محبت نہیں،اس دل کو ویران سمجھیئے یعنی اندھیرا اور تاریکی ہے ایسے دل میں اور اس میں روشنی و نور کی گنجائش ہی نہیں۔ "جیں کوں پیار دی جانڑ سنجانڑ نہیں، اوں بندے کوں نادان سمجھ" جس کسی کو بھی پیار کی جان پہچان نہیں،اس بندہ کو نادان سمجھیئے نادان کا مطلب تو دانائی سے عاری۔ تو واقعی ظلمت اور حکمت ایک ہی بت میں یکجا تو نہیں ہو سکتی ہے۔ "ایہو پیار ہے درس ولی یاں دا، اے مسلک پاک نبی یاں دا" ہی محبت، پیار سبق ہے ولیوں کا، ہی مسلک ہے پاک نبیوں کا اب اس شعر کی اس سے زیادہ آسان تشریح میں کیا کروں؟

 

بھائی یہ محبتیں بانٹنا اللہ والوں کا کام ہے۔ "انمول پیار دی دولت ای یہ، ایں کوں عقبا دا سامان سمجھ" "ہیں پیار دی خاطر عرش بنڑے، ہیں پیار دی خاطر فرش بنڑے" "خد پیار خدا وچ وسدا ہے، میں سچ اہداں قران سمجھ" یہاں تو میری عقل کی حد ختم ہی سمجھیں، محبت کو عاقبت کی تیاری بھی کہہ دیا گیا اور اسکو تخلیق جہاں کی وجہ بھی بتا دیا اور یہ بھی فرما دیا کہ، اللہ پاک خود بھی پیار اور محبت کرنے والا رب ہے۔ یہی سبق قرآن بھی دے رہا ہے۔ "ناں چاونڑ پیار دا سوکھا اے، ہیں کوں طوڑ نبھاونڑ اوکھا ہے" "معراج تھیندن ایندے سولیاں تے، کئی چڑھدے نوک سنان سمجھ" ہاں یہ بات بالکل درست ہے

 

کہ محبت کا نام لینا یا دعویٰ کرنا تو واقعی بہت آسان ہے۔ لیکن نبھانے والے مر مر کے جیتے اور کٹ کٹ کر مرتے ہیں۔ "ایہو پیار تاں رب ملوا ڈیندے" "ستے لیکھ نظیر جگا ڈیندے" فرماتے ہیں کہ، یہی محبت بالآخر رب ذالجلال سے جوڑ دیتی ہے اور خوشبختی و خوش نصیبی کی آمد کا ذریعہ بنتی ہے۔ "جیں دل وچ پیار دے دیرے ہن، بس ہوں دل کوں عرفان سمجھ" اچھا اب عرفان تو کہتے ہیں معرفت رکھنے والے کو، یعنی کہ، جو اللہ کو پہچاننے والا ہو۔

 

گویا محبت و سوز رکھنے والا دل، یقیناً اللہ کا عارف ہے۔ اب بھلا ایسے بزرگوں کے عارفانہ کلام سے ہٹ کر کوئی کیا سیکھے یا سکھائے گا عشق و محبت کے اسرار و رموز۔ بس دعا کریں کہ، اللہ تعالیٰ محبت کرنے والا بنا دے۔ تاکہ مرنے سے پہلے ہم بھی اللہ کو پیارے ہو جائیں۔

آمین

حافظ جمال الدین رحمانی شعبہ تخصص فی کلیۃ الدعوہ جامعۃالرشید کراچی

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Recent Blogs