تفسیر بالرائے کا فتنہ الحاد کی راہ

March 14, 2022 10 months ago No Comment

دورِ حاضر کو سائنسی اور مادی اعتبار سے لاکھ ترقی یافتہ کہہ لیجیے؛لیکن اخلاقی اقدار،روحانی بصیرت، ایمانی جوہر کی پامالی کے لحاظ سے یہ انسانیت کا بدترین دورِ انحطاط ہے۔ مکر وفن، دغا وفریب، شر وفساد، لہو ولعب، کفر ونفاق اور بے مروّتی ودنائت کا جو طوفان ہمارے گرد وپیش برپا ہے، اس نے سفینۂ انسانیت کے لیے سنگین خطرہ پیدا کردیا ہے۔

 

یہ دور فتنوں کا دور ہے ،ہر سمت سے مختلف فتنوں کی یلغار ہے،آج ایک طرف جہاں انٹرنیٹ و سوشل میڈیا کے ذریعے الحاد اور لادینیت کی شورشیں عروج پرہیں،اشکالات اور وساوس پیدا کرکے اسلام کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے ہورہے ہیں،مسلمانوں کو شکوک و شبہات میں مبتلا کرکے اسلام بیزار کرنے کی سازشیں رچی جارہی ہیں،وہیں دوسری طرف میدان عمل میں باطل فرقے اور گمراہ جماعتیں پوری تن دہی اورمستعدی کے ساتھ کفر و الحاد کے جال بچھا رہی ہیں،نئی نسل کو راہ حق سے برگشہ کررہی ہیں اور ملت کے متاع دین وایمان پر ڈاکے ڈال رہی ہیں۔

 

ہم ایسے دور سے گزر رہے ہیں جس میں  فتنہ سامانیوں سے زمین لرز رہی ہے اور بحر و بر، جبل و دشت اور وحوش و طیور ''الامان والحفیظ!'' کی صدائے احتجاج بلند کررہے ہیں، انسانیت پر نزع کا عالم طاری ہے،اس کی نبضیں ڈوب رہی ہیں، لمحہ بہ لمحہ اس جاں بلب مریض کی حالت متغیر ہوتی جارہی ہے، اور یوں لگتا ہے کہ اب کائنات اپنی انتہا کو پہنچ رہی ہے اور قیامت قریب آ چکی ہے ،( اقْتَربۃالسَّاعَۃ،و انشق القمر ۔)ہونے والا ہے ،

 

فتنوں کے اس دور میں مسلمانوں کا بڑا طبقہ ایمان کے حوالے سے غیر اطمینانی کیفیت سے دوچار ہے؛جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ آج اکثر مسلم گھرانے اسلامی تعلیمات اور قران و حدیث کے علوم کی روشنی سے محروم تو ہیں ہی، ساتھ میں دینی طبقہ علماء، فقہاء سے دین سمجھنے کی بجائے بے دھڑک ایسی کتابوں کا مطالعہ کرنا شروع کردیتے ہیں یا ایسے اسکالرس کو سننے اور دیکھنے لگ جاتے جو غیر محسوس طریقے پرخدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سمیت مذہبی تعلیمات سے بیزاری کی راہ پر ڈال رہے ہوتے ہیں۔رفتہ رفتہ وہی زہر دماغ میں سرایت کرنے لگتا ہے،جو اس کتاب یا ویڈیوکلپ میں پڑھا یا دیکھا جاتا ہے نتیجتاً عقلیت پرستی کا شکار ہوکرقلادۂ اسلام ہی کو گردن سے نکال پھینکتے ہیں۔

 

پندرہویں اور سولہویں صدی میں پروٹسٹنٹ فرقے کا بانی مارٹن لوتھر اٹھا تھا اور اس نے یہ نظریہ دیا تھا کہ ہر آدمی کو حق پہنچتا ہے کہ براہ راست خدا کا کلام پڑھے اور اپنی فہم کے مطابق اسے سمجھے، دینی رہنمائوں،علماء کو درمیان میں آنے کا حق نہیں، ہر فرد کو یہ اختیار حاصل ہے کہ دینی معاملات میں انفرادی طور سے خود ہی فیصلہ کرے ۔

 

یعنی مارٹن لوتھر نے فرد کو تفسیر بالرائے کی پوری آزادی دے دی تھی اور دینی معاملات میں ہر قسم کی استناد سے انکار کردیا تھا ، تو نتیجہ یہ نکلا لوتھر کی پروٹسٹنٹ تحریک آگے چل کر فتنہ الحاد بن کر ظاہر ہوئ اور سب الحاد کو اپنا کر خدا کے منکر بن بیٹھے ۔

 

ساری جدیدیت اور اس سے پیدا ہونے والی تمام گمراہیوں کی جڑ او اصل الاصول یہی انفرادیت پرستی اور اطاعت سے انکار ہے ۔

اس وقت ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عوام کو علماء سے بدظن کیا جارہا ہے، عوام دن بدن علماء سے دور ہوتے جارہے ہیں اور دوسری جانب متجددین ایک نئے دین کا جال بچھا کر عوام کے ایمان کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں، اور بہت سارے مسلمان متجددیں اور لبرلز کی چکنی چپڑی باتوں میں آکر غیر شعوری طور پر اسلام کے دائرے سے نکلتے جارہے ہیں۔

 

دین و ایمان کے لیے ان خطرناک حالات میں اگر ہر مسلمان پہلے مکمل طور پر اسلامی تعلیمات سے واقفیت حاصل کرے، تاریخ کا مطالعہ کرے، علماء کرام سے اپنا تعلق مضبوط رکھے،اور اس کے بعد پھر کسی بھی نظام یا جماعت کا جائزہ لے تو یہ بات وہ آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے کہ راہ نجات صرف وہی ہے جو اسلام نے بتائی ہے، اور اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کا بہتر طریقہ وہی ہے جو نسل در نسل اسناد صحیح کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ کرام تک، صحابہ کرام سے تابعین اور تبع تابعین تک پھر ائمہ کرام اور علمائے حق کے واسطے سے ہم تک پہونچتا ہے۔

 

ربیع بن اقبال

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Recent Blogs